Diwan-e-Ghalib · 172 of 272
ایک جا حرفِ وفا لکّھا تھا، سو* بھی مٹ گیا
Mirza Ghalib
Bahrرمل مثمن محذوف
فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
arooz scans 12 of 12 lines
ایک جا حرفِ وفا لکّھا تھا، سو* بھی مٹ گیا
ظاہرا کاغذ ترے خط کا غلط بردار ہے
جی جلے ذوقِ فنا کی نا تمامی پر نہ کیوں
ہم نہیں جلتے نفس ہر چند آتش بار ہے
آگ سے پانی میں بجھتے وقت اٹھتی ہے صدا
ہر کوئی در ماندگی میں نالے سے ناچار ہے
ہے وہی بد مستیِ ہر ذرّہ کا خود عذر خواہ
جس کے جلوے سے زمیں تا آسماں سرشار ہے
مجھ سے مت کہہ "تو ہمیں کہتا تھا اپنی زندگی"
زندگی سے بھی مرا جی ان دنوں بیزار ہے
آنکھ کی تصویر سر نامے پہ کھینچی ہے کہ تا
تجھ پہ کھل جاوے کہ اس کو حسرتِ دیدار ہے