Diwan-e-Ghalib · 207 of 272

شکوے کے نام سے بے مہر خفا ہوتا ہے

Mirza Ghalib
Bahrرمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
فاعلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن
arooz scans 26 of 26 lines

شکوے کے نام سے بے مہر خفا ہوتا ہے

یہ بھی مت کہہ کہ جو کہیے تو گِلا ہوتا ہے

پُر ہوں میں شکوے سے یوں، راگ سے جیسے باجا

اک ذرا چھیڑیے پھر دیکھیے کیا ہوتا ہے

گو سمجھتا نہیں پر حسنِ تلافی دیکھو

شکوۂ جور سے سر گرمِ جفا ہوتا ہے

عشق کی راہ میں ہے چرخِ مکوکب کی وہ چال

سست رو جیسے کوئی آبلہ پا ہوتا ہے

کیوں نہ ٹھہریں ہدفِ ناوکِ بیداد کہ ہم

آپ اٹھا لاتے ہیں گر تیر خطا ہوتا ہے

خوب تھا پہلے سے ہوتے جو ہم اپنے بد خواہ

کہ بھلا چاہتے ہیں اور برا ہوتا ہے

نالہ جاتا تھا پرے عرش سے میرا اور اب

لب تک آتا ہے جو ایسا ہی رسا ہوتا ہے

۔ق۔

خامہ میرا کہ وہ ہے باربُدِ بزمِ سخن

شاہ کی مدح میں یوں نغمہ سرا ہوتا ہے

اے شہنشاہِ کواکب سپہ و مہرِ علم

تیرے اکرام کا حق کس سے ادا ہوتا ہے

سات اقلیم کا حاصل جو فراہم کیجے

تو وہ لشکر کا ترے نعل بہا ہوتا ہے

ہر مہینے میں جو یہ بدر سے ہوتا ہے ہلال

آستاں پر ترے مہ ناصیہ سا ہوتا ہے

میں جو گستاخ ہوں آئینِ غزل خوانی میں

یہ بھی تیرا ہی کرم ذوق فزا ہوتا ہے

رکھیو غالب مجھے اس تلخ نوائی میں معاف

آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے