Diwan-e-Ghalib · 218 of 272

چاہیے اچھّوں کو ، جتنا چاہیے

Mirza Ghalib
Bahrرمل مسدس محذوف
فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
arooz scans 19 of 20 lines

چاہیے اچھّوں کو ، جتنا چاہیے

یہ اگر چاہیں تو پھر کیا چاہیے

صُحبتِ رنداں سے واجب ہے حَذر

جاۓ مے ، اپنے کو کھینچا چاہیے

چاہنے کو تیرے کیا سمجھا تھا دل ؟

بارے اب اِس سے بھی سمجھا چاہیے !

چاک مت کر جیب ، بے ایامِ گُل

کُچھ ادھر کا بھی اشارہ چاہیے

دوستی کا پردہ ہے بیگانگی

منہ چُھپانا ہم سے چھوڑا چاہیے

دُشمنی نے میری ، کھویا غیر کو

کِس قدر دُشمن ہے ، دیکھا چاہیے

اپنی، رُسوائی میں کیا چلتی ہے سَعی

یار ہی ہنگامہ آرا چاہیے

منحصر مرنے پہ ہو جس کی امید

نااُمیدی اُس کی دیکھا چاہیےarooz could not scan this line

غافل ، اِن مہ طلعتوں کے واسطے

چاہنے والا بھی اچھا چاہیے

چاہتے ہیں خُوبرویوں کو اسد

آپ کی صُورت تو دیکھا چاہیے

A small circle marks a line arooz could not fit to the poem’s bahr. That is a limit of arooz, not of the poet: the text may leave an izafat unwritten, a word may be missing from arooz’s dictionary, or the line may use a licence arooz does not yet model.