Diwan-e-Ghalib · 182 of 272

دیکھنا قسمت کہ آپ اپنے پہ رشک آ جائے ہے

Mirza Ghalib
Bahrرمل مثمن محذوف
فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
arooz scans 19 of 20 lines

دیکھنا قسمت کہ آپ اپنے پہ رشک آ جائے ہے

میں اسے دیکھوں، بھلا کب مجھ سے دیکھا جائے ہے

ہاتھ دھو دل سے یہی گرمی گر اندیشے میں ہے

آبگینہ تندئِ صہبا سے پگھلا جائے ہے

غیر کو یا رب وہ کیوں کر منعِ گستاخی کرے

گر حیا بھی اس کو آتی ہے تو شرما جائے ہے

شوق کو یہ لت کہ ہر دم نالہ کھینچے جائیے

دل کی وہ حالت کہ دم لینے سے گھبرا جائے ہے

دور چشمِ بد تری بزمِ طرب سے واہ واہ

نغمہ ہو جاتا ہے واں گر نالہ میرا جائے ہے

گرچہ ہے طرزِ تغافل پردہ دارِ رازِ عشق

پر ہم ایسے کھوئے جاتے ہیں کہ وہ پا جائے ہے

اس کی بزم آرائیاں سن کر دلِ رنجور، یاں

مثلِ نقشِ مدّعاۓ غیر بیٹھا جائے ہےarooz could not scan this line

ہو کے عاشق وہ پری رخ اور نازک بن گیا

رنگ کھُلتا جائے ہے جتنا کہ اڑتا جائے ہے

نقش کو اس کے مصوّر پر بھی کیا کیا ناز ہیں

کھینچتا ہے جس قدر اتنا ہی کھنچتا جائے ہے

سایہ میرا مجھ سے مثلِ دود بھاگے ہے اسد

پاس مجھ آتش بجاں کے کس سے ٹھہرا جائے ہے

A small circle marks a line arooz could not fit to the poem’s bahr. That is a limit of arooz, not of the poet: the text may leave an izafat unwritten, a word may be missing from arooz’s dictionary, or the line may use a licence arooz does not yet model.