Diwan-e-Ghalib · 104 of 272

کی وفا ہم سے تو غیر اس کو جفا کہتے ہیں

Mirza Ghalib
Bahrرمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
فاعلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن
arooz scans 15 of 18 lines

کی وفا ہم سے تو غیر اس کو جفا کہتے ہیں

ہوتی آئی ہے کہ اچھوں کو برا کہتے ہیں

آج ہم اپنی پریشانئِ خاطر ان سےarooz could not scan this line

کہنے جاتے تو ہیں، پر دیکھئے کیا کہتے ہیں

اگلے وقتوں کے ہیں یہ لوگ، انہیں کچھ نہ کہو

جو مے و نغمہ کو اندوہ رُبا کہتے ہیں

دل میں آ جائے ہے، ہوتی ہے جو فرصت غش سے

اور پھر کون سے نالے کو رسا کہتے ہیں

ہے پرے سرحدِ ادراک سے اپنا مسجود

قبلے کو اہلِ نظر قبلہ نما کہتے ہیں

پائے افگار پہ جب سے تجھے رحم آیا ہے

خارِ رہ کو ترے ہم مہرِ گیا کہتے ہیں

اک شرر دل میں ہے اُس سے کوئی گھبرائے گا کیا

آگ مطلوب ہے ہم کو ،جو ہَوا کہتے ہیں

دیکھیے لاتی ہے اُس شوخ کی نخوت کیا رنگ

اُس کی ہر بات پہ ہم ’نامِ خدا‘ کہتے ہیں

وحشت و شیفتہ اب مرثیہ کہویں شایدarooz could not scan this line

مر گیا غالب آشفتہ نوا، کہتے ہیںarooz could not scan this line

A small circle marks a line arooz could not fit to the poem’s bahr. That is a limit of arooz, not of the poet: the text may leave an izafat unwritten, a word may be missing from arooz’s dictionary, or the line may use a licence arooz does not yet model.