Diwan-e-Ghalib · 21 of 272

دوست غمخواری میں میری سعی فرمائیں گے کیا

Mirza Ghalib
Bahrرمل مثمن محذوف
فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
arooz scans 14 of 14 lines

دوست غمخواری میں میری سعی فرمائیں گے کیا

زخم کے بھرنے تلک ناخن نہ بڑھ جائیں گے کیا

بے نیازی حد سے گزری بندہ پرور، کب تلک

ہم کہیں گے حالِ دل، اور آپ فرمائیں گے 'کیا'؟

حضرتِ ناصح گر آئیں، دیدہ و دل فرشِ راہ

کوئی مجھ کو یہ تو سمجھا دو کہ سمجھائیں گے کیا؟

آج واں تیغ و کفن باندھے ہوئے جاتا ہوں میں

عذر میرے قتل کرنے میں وہ اب لائیں گے کیا

گر کیا ناصح نے ہم کو قید، اچھا یوں سہی

یہ جنونِ عشق کے انداز چھٹ جائیں گے کیا

خانہ زادِ زلف ہیں، زنجیر سے بھاگیں گے کیوں

ہیں گرفتارِ وفا، زنداں سے گھبرائیں گے کیا

ہے اب اس معمورے میں قحطِ غمِ الفت اسدؔ

ہم نے یہ مانا کہ دلّی میں رہیں، کھائیں گے کیا؟