Diwan-e-Ghalib · 220 of 272

نکتہ چیں ہے ، غمِ دل اُس کو سُنائے نہ بنے

Mirza Ghalib
Bahrرمل مثمن سالم مخبون محذوف
فاعلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فَعِلن
arooz scans 18 of 18 lines

نکتہ چیں ہے ، غمِ دل اُس کو سُنائے نہ بنے

کیا بنے بات ، جہاں بات بنائے نہ بنے

میں بُلاتا تو ہوں اُس کو ، مگر اے جذبۂ دل

اُس پہ بن جائے کُچھ ایسی کہ بِن آئے نہ بنے

کھیل سمجھا ہے ، کہیں چھوڑ نہ دے ، بھول نہ جائے

کاش ! یُوں بھی ہو کہ بِن میرے ستائے نہ بنے

غیر پھرتا ہے لیے یوں ترے خط کو کہ ، اگر

کوئی پُوچھے کہ یہ کیا ہے ، تو چُھپائے نہ بنے

اِس نزاکت کا بُرا ہو ، وہ بھلے ہیں ، تو کیا

ہاتھ آویں ، تو اُنھیں ہاتھ لگائے نہ بنے

کہہ سکے کون کہ یہ جلوہ گری کس کی ہے

پردہ چھوڑا ہے وہ اُس نے کہ اُٹھائے نہ بنے

موت کی راہ نہ دیکھوں ؟ کہ بِن آئے نہ رہے

تم کو چاہوں ؟ کہ نہ آؤ ، تو بُلائے نہ بنے

بوجھ وہ سر سے گرا ہے کہ اُٹھائے نہ اُٹھے

کام وہ آن پڑا ہے کہ بنائے نہ بنے

عشق پر زور نہیں ، ہے یہ وہ آتش غالب!

کہ لگائے نہ لگے ، اور بُجھائے نہ بنے