Diwan-e-Ghalib · 192 of 272

کہتے تو ہو تم سب کہ بتِ غالیہ مو آئے

Mirza Ghalib
Bahrہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف
مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن
arooz scans 17 of 18 lines

کہتے تو ہو تم سب کہ بتِ غالیہ مو آئے

یک مرتبہ گھبرا کے کہو کوئی "کہ وو آئے"

ہوں کشمکشِ نزع میں ہاں جذبِ محبّتarooz could not scan this line

کچھ کہہ نہ سکوں، پر وہ مرے پوچھنے کو آئے

ہے صاعقہ و شعلہ و سیماب کا عالم

آنا ہی سمجھ میں مری آتا نہیں، گو آئے

ظاہر ہے کہ گھبرا کے نہ بھاگیں گے نکیرین

ہاں منہ سے مگر بادۂ دوشینہ کی بو آئے

جلاّد سے ڈرتے ہیں نہ واعظ سے جھگڑتے

ہم سمجھے ہوئے ہیں اسے جس بھیس میں جو آئے

ہاں اہلِ طلب! کون سنے طعنۂ نا یافت

دیکھا کہ وہ ملتا نہیں اپنے ہی کو کھو آئے

اپنا نہیں وہ شیوہ کہ آرام سے بیٹھیں

اس در پہ نہیں بار تو کعبے ہی کو ہو آئے

کی ہم نفسوں نے اثرِ گریہ میں تقریر

اچّھے رہے آپ اس سے مگر مجھ کو ڈبو آئے

اس انجمنِ ناز کی کیا بات ہے غالب

ہم بھی گئے واں اور تری تقدیر کو رو آئے

A small circle marks a line arooz could not fit to the poem’s bahr. That is a limit of arooz, not of the poet: the text may leave an izafat unwritten, a word may be missing from arooz’s dictionary, or the line may use a licence arooz does not yet model.