Diwan-e-Ghalib · 200 of 272

میں انہیں چھیڑوں اور کچھ نہ کہیں

Mirza Ghalib
Bahrخفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع
فاعلاتن مفاعلن فِعْلن
arooz scans 8 of 8 lines

میں انہیں چھیڑوں اور کچھ نہ کہیں

چل نکلتے جو مے پیے ہوتے

قہر ہو یا بلا ہو جو کچھ ہو

کاشکے تم مرے لیے ہوتے

میری قسمت میں غم گر اتنا تھا

دل بھی یا رب کئی دیے ہوتے

آ ہی جاتا وہ راہ پر غالب

کوئی دن اور بھی جیے ہوتے