Diwan-e-Ghalib · 154 of 272

شبِ وصال میں مونس گیا ہے بَن تکیہ

Mirza Ghalib
Bahrمجتث مثمن مخبون محذوف مسکن
مفاعلن فَعِلاتن مفاعلن فِعْلن
arooz scans 26 of 28 lines

شبِ وصال میں مونس گیا ہے بَن تکیہ

ہوا ہے موجبِ آرامِ جان و تن تکیہ

خراج بادشہِ چیں سے کیوں نہ مانگوں آج؟

کہ بن گیا ہے خمِ جعدِ* پُرشکن تکیہ

بنا ہے تختۂ گل ہاۓ یاسمیں بستر

ہوا ہے دستۂ نسرین و نسترن تکیہ

فروغِ حسن سے روشن ہے خوابگاہ تمام

جو رختِ خواب ہے پرویں، تو ہے پرن تکیہ

مزا ملے کہو کیا خاک ساتھ سونے کا

رکھے جو بیچ میں وہ شوخِ سیم تن تکیہ

اگرچہ تھا یہ ارادہ مگر خدا کا شکر

اٹھا سکا نہ نزاکت سے گلبدن تکیہ

ہوا ہے کاٹ کے چادر کو ناگہاں غائب

اگر چہ زانوۓ نل پر رکھے دمن تکیہarooz could not scan this line

بضربِ تیشہ وہ اس واسطے ہلاک ہوا

کہ ضربِ تیشہ پہ رکھتا تھا کوہکن تکیہ

یہ رات بھر کا ہے ہنگامہ صبح ہونے تک

رکھو نہ شمع پر اے اہلِ انجمن تکیہ

اگرچہ پھینک دیا تم نے دور سے لیکن

اٹھاۓ کیوں کہ یہ رنجورِ خستہ تن تکیہ

غش آ گیا جو پس از قتل میرے قاتل کو

ہوئی ہے اس کو مری نعشِ بے کفن تکیہ

شبِ فراق میں یہ حال ہے اذیّت کا

کہ سانپ فرش ہے اور سانپ کا ہے من تکیہ

روارکھونہ رکھو، تھاجو لفظ تکیہ کلامarooz could not scan this line

اب اس کو کہتے ہیں اہلِ سخن "سخن تکیہ"

ہم اور تم فلکِ پیر جس کو کہتے ہیں

فقیر غالب مسکیں کا ہے کہن تکیہ

A small circle marks a line arooz could not fit to the poem’s bahr. That is a limit of arooz, not of the poet: the text may leave an izafat unwritten, a word may be missing from arooz’s dictionary, or the line may use a licence arooz does not yet model.