Diwan-e-Ghalib · 132 of 272

مزے جہان کے اپنی نظر میں خاک نہیں

Mirza Ghalib
Bahrمجتث مثمن مخبون محذوف
مفاعلن فَعِلاتن مفاعلن فَعِلن
arooz scans 14 of 14 lines

مزے جہان کے اپنی نظر میں خاک نہیں

سوائے خونِ جگر، سو جگر میں خاک نہیں

مگر غبار ہُوے پر ہَوا اُڑا لے جائے

وگرنہ تاب و تواں بال و پر میں خاک نہیں

یہ کس بہشت شمائل کی آمد آمد ہے؟

کہ غیرِ جلوۂ گُل رہ گزر میں خاک نہیں

بھلا اُسے نہ سہی، کچھ مجھی کو رحم آتا

اثر مرے نفسِ بے اثر میں خاک نہیں

خیالِ جلوۂ گُل سے خراب ہیں میکش

شراب خانے کے دیوار و در میں خاک نہیں

ہُوا ہوں عشق کی غارت گری سے شرمندہ

سوائے حسرتِ تعمیر۔ گھر میں خاک نہیں

ہمارے شعر ہیں اب صرف دل لگی کے اسد

کُھلا، کہ فائدہ عرضِ ہُنر میں خاک نہیں