Diwan-e-Ghalib · 214 of 272

گلشن کو تری صحبت از بسکہ خوش آئی ہے

Mirza Ghalib
Bahrہزج مثمن اخرب سالم
مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن
arooz scans 6 of 6 lines

گلشن کو تری صحبت از بسکہ خوش آئی ہے

ہر غنچے کا گل ہونا آغوش کشائی ہے

واں کُنگرِ استغنا ہر دم ہے بلندی پر

یاں نالے کو اُور الٹا دعواۓ رسائی ہے

از بسکہ سکھاتا ہے غم ضبط کے اندازے

جو داغ نظر آیا اک چشم نمائی ہے