Diwan-e-Ghalib · 32 of 272

میں اور بزمِ مے سے یوں تشنہ کام آؤں

Mirza Ghalib
Bahrرمل مثمن مشکول مسکّن
مفعول فاعلاتن مفعول فاعلاتن
arooz scans 6 of 6 lines

میں اور بزمِ مے سے یوں تشنہ کام آؤں

گر میں نے کی تھی توبہ، ساقی کو کیا ہوا تھا؟

ہے ایک تیر جس میں دونوں چھِدے پڑے ہیں

وہ دن گئے کہ اپنا دل سے جگر جدا تھا

درماندگی میں غالب کچھ بن پڑے تو جانوں

جب رشتہ بے گرہ تھا، ناخن گرہ کشا تھا