Diwan-e-Ghalib · 230 of 272

دیا ہے دل اگر اُس کو ، بشر ہے ، کیا کہیے

Mirza Ghalib
Bahrمجتث مثمن مخبون محذوف
مفاعلن فَعِلاتن مفاعلن فَعِلن
arooz scans 16 of 18 lines

دیا ہے دل اگر اُس کو ، بشر ہے ، کیا کہیے

ہوا رقیب ، تو ہو ، نامہ بر ہے ، کیا کہیے

یہ ضد کہ آج نہ آوے ، اور آئے بِن نہ رہے

قضا سے شکوہ ہمیں کِس قدر ہے ، کیا کہیے!

رہے ہے یوں گِہ و بے گہِ ، کہ کُوئے دوست کو ابarooz could not scan this line

اگر نہ کہیے کہ دشمن کا گھر ہے ، کیا کہیے!

زہے کرشمہ کہ یوں دے رکھا ہے ہم کو فریب

کہ بن کہے ہی انہیں سب خبر ہے، کیا کہیے

سمجھ کے کرتے ہیں ، بازار میں وہ پُرسشِ حال

کہ یہ کہے کہ ، سرِ رہگزر ہے ، کیا کہیے؟

تمہیں نہیں ہے سرِ رشتۂ وفا کا خیال

ہمارے ہاتھ میں کچھ ہے ، مگر ہے کیا؟ کہیے!

اُنہیں سوال پہ زعمِ جنوں ہے ، کیوں لڑیئےarooz could not scan this line

ہمیں جواب سے قطعِ نظر ہے ، کیا کہیے؟

حَسد ، سزائے کمالِ سخن ہے ، کیا کیجے

سِتم ، بہائے متاعِ ہُنر ہے ، کیا کہیے!

کہا ہے کِس نے کہ غالب بُرا نہیں ، لیکن

سوائے اس کے کہ آشفتہ سر ہے ، کیا کہیے

A small circle marks a line arooz could not fit to the poem’s bahr. That is a limit of arooz, not of the poet: the text may leave an izafat unwritten, a word may be missing from arooz’s dictionary, or the line may use a licence arooz does not yet model.