Diwan-e-Ghalib · 169 of 272

سر گشتگی میں عالمِ ہستی سے یاس ہے

Mirza Ghalib
Bahrمضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
مفعول فاعلاتُ مفاعیل فاعلن
arooz scans 12 of 12 lines

سر گشتگی میں عالمِ ہستی سے یاس ہے

تسکیں کو دے نوید* کہ مرنے کی آس ہے

لیتا نہیں مرے دلِ آوارہ کی خبر

اب تک وہ جانتا ہے کہ میرے ہی پاس ہے

کیجے بیاں سرورِ تبِ غم کہاں تلک

ہر مو مرے بدن پہ زبانِ سپاس ہے

ہے وہ غرورِ حسن سے بیگانۂ وفا

ہرچند اس کے پاس دلِ حق شناس ہے

پی جس قدر ملے شبِ مہتاب میں شراب

اس بلغمی مزاج کو گرمی ہی راس ہے

ہر اک مکان کو ہے مکیں سے شرف اسد

مجنوں جو مر گیا ہے تو جنگل اداس ہے