Diwan-e-Ghalib · 204 of 272

حسنِ مہ گرچہ بہ ہنگامِ کمال اچّھا ہے

Mirza Ghalib
Bahrرمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
فاعلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن
arooz scans 20 of 20 lines

حسنِ مہ گرچہ بہ ہنگامِ کمال اچّھا ہے

اس سے میرا مہِ خورشید جمال اچّھا ہے

بوسہ دیتے نہیں اور دل پہ ہے ہر لحظہ نگاہ

جی میں کہتے ہیں کہ مفت آئے تو مال اچّھا ہے

اور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیا

ساغرِ جم سے مرا جامِ سفال اچّھا ہے

بے طلب دیں تو مزہ اس میں سوا ملتا ہے

وہ گدا جس کو نہ ہو خوۓ سوال اچّھا ہے

ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق

وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچّھا ہے

دیکھیے پاتے ہیں عشّاق بتوں سے کیا فیض

اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچّھا ہے

ہم سخن تیشے نے فرہاد کو شیریں سے کیا

جس طرح کا کہ* کسی میں ہو کمال اچّھا ہے

قطرہ دریا میں جو مل جائے تو دریا ہو جائے

کام اچّھا ہے وہ، جس کا کہ مآل اچّھا ہے

خضر سلطاں کو رکھے خالقِ اکبر سر سبز

شاہ کے باغ میں یہ تازہ نہال اچّھا ہے

ہم کو معلوم ہے جنّت کی حقیقت لیکن

دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچّھا ہے