Diwan-e-Ghalib · 232 of 272

یاد ہے شادی میں بھی ، ہنگامۂ "یارب" ، مجھے

Mirza Ghalib
Bahrرمل مثمن محذوف
فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
arooz scans 10 of 10 lines

یاد ہے شادی میں بھی ، ہنگامۂ "یارب" ، مجھے

سُبحۂ زاہد ہوا ہے ، خندہ زیرِ لب مجھے

ہے کُشادِ خاطرِ وابستہ دَر ، رہنِ سخن

تھا طلسمِ قُفلِ ابجد ، خانۂ مکتب مجھے

یارب ! اِس آشفتگی کی داد کس سے چاہیے!

رشک ، آسائش پہ ہے زندانیوں کی اب مجھے

طبع ہے مشتاقِ لذت ہائے حسرت کیا کروں!

آرزو سے ، ہے شکستِ آرزو مطلب مجھے

دل لگا کر آپ بھی غالب مُجھی سے ہوگئے

عشق سے آتے تھے مانِع ، میرزا صاحب مجھے