Diwan-e-Ghalib · 74 of 272

گھر جب بنا لیا ترے در پر کہے بغیر

Mirza Ghalib
Bahrمضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
مفعول فاعلاتُ مفاعیل فاعلن
arooz scans 17 of 18 lines

گھر جب بنا لیا ترے در پر کہے بغیر

جانے گا اب بھی تو نہ مرا گھر کہے بغیر؟

کہتے ہیں جب رہی نہ مجھے طاقتِ سخن

’جانوں کسی کے دل کی میں کیونکر کہے بغیر‘

کام اس سے آ پڑا ہے کہ جس کا جہان میں

لیوے نہ کوئی نام ستم گر کہے بغیر

جی میں ہی کچھ نہیں ہے ہمارے وگرنہ ہم

سر جاۓ یا رہے، نہ رہیں پر کہے بغیر

چھوڑوں گا میں نہ اس بتِ کافر کا پوجنا

چھوڑے نہ خلق گو مجھے کافَر کہے بغیر

مقصد ہے ناز و غمزہ ولے گفتگو میں کام

چلتا نہیں ہے دُشنہ و خنجر کہے بغیر

ہر چند ہو مشاہدۂ حق کی گفتگو

بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر

بہرا ہوں میں۔ تو چاہیۓ، دونا ہوں التفاتarooz could not scan this line

سنتا نہیں ہوں بات مکرّر کہے بغیر

غالب نہ کر حضور میں تو بار بار عرض

ظاہر ہے تیرا حال سب اُن پر کہے بغیر

A small circle marks a line arooz could not fit to the poem’s bahr. That is a limit of arooz, not of the poet: the text may leave an izafat unwritten, a word may be missing from arooz’s dictionary, or the line may use a licence arooz does not yet model.