Book
بالِ جبریل
Bal-e-Jibril — Gabriel’s Wing
Allama Iqbal (1877–1938)
179 poems2,364 linesWith English translation
arooz scans 85.4% of the lines
Contents
حصۂ اوّل
Part one- 1میری نوائے شوق سے شور حریم ذات میں6/10
- 2اگر کج رَو ہیں انجم، آسماں تیرا ہے یا میرا8/10
- 3گیسوئے تابدار کو اور بھی تابدار کر13/14
- 4اثر کرے نہ کرے ، سن تو لے مری فریاد10/14
- 5کیا عشق ایک زندگیِ مستعار کا10/10
- 6پریشاں ہوکے میری خاک آخر دل نہ بن جائے5/12
- 7دِگرگُوں ہے جہاں، تاروں کی گردش تیز ہے ساقی10/14
- 8لا پھر اک بار وہی بادہ و جام اے ساقی13/14
- 9مٹا دیا مرے ساقی نے عالم من و تو10/14
- 10متاعِ بےبہا ہے درد و سوزِ آرزومندی9/14
- 11تجھے یاد کیا نہیں ہے مرے دل کا وہ زمانہ14/14
- 12ضمیر لالہ مے لعل سے ہوا لبریز9/14
- 13وہی میری کم نصیبی ، وہی تیری بے نیازی11/14
- 14اپنی جولاںگاہ زیرِ آسماں سمجھا تھا میں9/12
- 15اک دانشِ نُورانی، اک دانشِ بُرہانی14/14
- 16یا رب! یہ جہانِ گُزَراں خوب ہے لیکن31/32
حصۂ دوم
Part two- 17سما سکتا نہیں پہنائے فطرت میں مرا سودا45/50
- 18یہ کون غزل خواں ہے پُرسوز و نشاط انگیز11/14
- 19وہ حرفِ راز کہ مجھ کو سِکھا گیا ہے جُنوں15/18
- 20عالِم آب و خاک و باد! سِرِّ عیاں ہے تُو کہ مَیں7/8
- 21تُو ابھی رہ گزر میں ہے، قیدِ مقام سے گزر10/10
- 22امین راز ہے مردان حر کی درویشی6/10
- 23پھر چراغِ لالہ سے روشن ہوئے کوہ و دمن18/18
- 24مسلماں کے لہُو میں ہے سلیقہ دل نوازی کا9/12
- 25عشق سے پیدا نوائے زندگی میں زِیر و بم6/10
- 26دل سوز سے خالی ہے، نِگہ پاک نہیں ہے12/14
- 27ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیق13/14
- 28پُوچھ اس سے کہ مقبول ہے فطرت کی گواہی10/10
- 29یہ حُوریانِ فرنگی، دل و نظر کا حجاب8/14
- 30دلِ بیدار فاروقی، دلِ بیدار کرّاری12/14
- 31خودی کی شوخی و تُندی میں کبر و ناز نہیں14/14
- 32میرِ سپاہ ناسزا، لشکریاں شکستہ صف12/14
- 33زمِستانی ہوا میں گرچہ تھی شمشیر کی تیزی7/10
- 34یہ دَیرِ کُہن کیا ہے، انبارِ خس و خاشاک12/14
- 35کمالِ تَرک نہیں آب و گِل سے مہجوری12/14
- 36عقل گو آستاں سے دُور نہیں18/18
- 37خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں14/14
- 38یہ پیام دے گئی ہے مجھے بادِ صُبح گاہی12/14
- 39تری نگاہ فرومایہ، ہاتھ ہے کوتاہ14/14
- 40خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں14/14
- 41نگاہِ فقر میں شانِ سکندری کیا ہے14/14
- 42نہ تُو زمیں کے لیے ہے نہ آسماں کے لیے13/16
- 43تُو اے اسیرِ مکاں! لامکاں سے دور نہیں9/10
- 44خِرد نے مجھ کو عطا کی نظر حکیمانہ12/14
- 45افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخر14/14
- 46ہر شے مسافر، ہر چیز راہی9/10
- 47ہر چیز ہے محوِ خود نمائی16/16
- 48اعجاز ہے کسی کا یا گردش زمانہ10/14
- 49خِردمندوں سے کیا پُوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہے10/12
- 50جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی9/12
- 51مجھے آہ و فغانِ نیم شب کا پھر پیام آیا10/12
- 52نہ ہو طُغیانِ مشتاقی تو مَیں رہتا نہیں باقی12/14
- 53فطرت کو خِرد کے رُوبرو کر9/10
- 54یہ پِیرانِ کلیسا و حرم، اے وائے مجبوری!12/14
- 55تازہ پھر دانشِ حاضر نے کیا سِحرِ قدیم10/10
- 56ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں14/14
- 57ڈھُونڈ رہا ہے فرنگ عیشِ جہاں کا دوام14/14
- 58خودی ہو علم سے محکم تو غیرتِ جبریل13/14
- 59مکتبوں میں کہیں رعنائیِ افکار بھی ہے؟10/10
- 60حادثہ وہ جو ابھی پردۂ افلاک میں ہے10/10
- 61رہا نہ حلقۂ صُوفی میں سوزِ مشتاقی12/14
- 62ہُوا نہ زور سے اس کے کوئی گریباں چاک13/14
- 63یوں ہاتھ نہیں آتا وہ گوہرِ یک دانہ7/12
- 64نہ تخت و تاج میں نَے لشکر و سپاہ میں ہے11/14
- 65فِطرت نے نہ بخشا مجھے اندیشۂ چالاک8/8
- 66کریں گے اہلِ نظر تازہ بستیاں آباد14/14
- 67کی حق سے فرشتوں نے اقبالؔ کی غمّازی5/6
- 68نے مُہرہ باقی، نے مُہرہ بازی13/14
- 69گرم فغاں ہے جرس ، اٹھ کہ گیا قافلہ4/10
- 70مِری نوا سے ہُوئے زندہ عارف و عامی10/12
- 71ہر اک مقام سے آگے گزر گیا مہِ نو10/10
- 72کھو نہ جا اس سحَر و شام میں اے صاحبِ ہوش!9/10
- 73تھا جہاں مدرسۂ شیری و شاہنشاہی7/10
- 74ہے یاد مجھے نکتۂ سلمانِ خوش آہنگ5/6
- 75فقر کے ہیں معجزات تاج و سریر و سپاہ12/14
- 76کمالِ جوشِ جُنوں میں رہا مَیں گرمِ طواف10/10
- 77شعور و ہوش و خرد کا معاملہ ہے عجیب10/10
- 78اندازِ بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے6/6
رباعیات
Quatrains (rubaiyat)- 79رہ و رسمِ حرم نا محرمانہ2/4
- 80ظلامِ بحر میں کھو کر سنبھل جا3/4
- 81مکانی ہُوں کہ آزادِ مکاں ہُوں3/4
- 82خودی کی خلوتوں میں گُم رہا مَیں4/4
- 83پریشاں کاروبارِ آشنائی4/4
- 84یقیں، مثلِ خلیل آتش نشینی3/4
- 85عرب کے سوز میں سازِ عجم ہے4/4
- 86کوئی دیکھے تو میری نَے نوازی4/4
- 87ہر اک ذرّے میں ہے شاید مکیں دل3/4
- 88ترا اندیشہ افلاکی نہیں ہے4/4
- 89نہ مومن ہے نہ مومن کی امیری4/4
- 90خودی کی جلوَتوں میں مُصطفائی3/4
- 91نِگہ اُلجھی ہوئی ہے رنگ و بُو میں4/4
- 92جمالِ عشق و مستی نَے نوازی4/4
- 93وہ میرا رونقِ محفل کہاں ہے4/4
- 94سوارِ ناقہ و محمل نہیں مَیں4/4
- 95ترے سِینے میں دَم ہے، دل نہیں ہے4/4
- 96ترا جوہر ہے نوری ، پاک ہے تو1/4
- 97محبّت کا جُنوں باقی نہیں ہے3/4
- 98خودی کے زور سے دُنیا پہ چھا جا3/4
- 99چمن میں رختِ گُل شبنم سے تر ہے4/4
- 100خرد سے راہرو روشن بصر ہے4/4
- 101جوانوں کو مری آہِ سحَر دے3/4
- 102تری دنیا جہانِ مُرغ و ماہی4/4
- 103کرم تیرا کہ بے جوہر نہیں مَیں4/4
- 104وہی اصلِ مکان و لامکاں ہے4/4
- 105کبھی آوارہ و بے خانماں عشق3/4
- 106کبھی تنہائیِ کوہ و دمن عشق4/4
- 107عطا اسلاف کا جذب دروں کر2/4
- 108یہ نکتہ میں نے سیکھا بُوالحسن سے3/4
- 109خرد واقف نہیں ہے نیک و بد سے4/4
- 110خدائی اہتمامِ خشک و تر ہے3/4
- 111یہی آدم ہے سُلطاں بحر و بَر کا3/4
- 112دمِ عارف نسیمِ صبح دم ہے4/4
- 113رگوں میں وہ لہُو باقی نہیں ہے3/4
- 114کھُلے جاتے ہیں اسرارِ نہانی4/4
- 115زمانے کی یہ گردش جاودانہ4/4
- 116حکیمی، نامسلمانی خودی کی4/4
- 117ترا تن رُوح سے ناآشنا ہے4/4
- 118اقبال نے کل اہل خیاباں کو سنایا4/4
منظومات
Poems- 119دعا (مسجد قرطبہ میں لکھی گئی)ہے یہی میری نماز، ہے یہی میرا وضو20/22
- 120مسجد قرطبہسِلسلۂ روز و شب، نقش گرِ حادثات111/128
- 121قید خانے میں معتمدکی فریاداک فغانِ بے شرر سینے میں باقی رہ گئی8/8
- 122عبد الرحمن اول کا بویا ہوا کھجور کا پہلا درختمیری آنکھوں کا نُور ہے تُو19/20
- 123ہسپانیہہسپانیہ تُو خُونِ مسلماں کا امیں ہے13/14
- 124طارق کی دعایہ غازی، یہ تیرے پُر اسرار بندے19/20
- 125لینناے انفُس و آفاق میں پیدا ترے آیات40/44
- 126فرشتوں کاگیتعقل ہے بے زمام ابھی، عشق ہے بے مقام ابھی10/10
- 127ذوق و شوق’دریغ آمدم زاں ہمہ بوستاں50/62
- 128پروانہ اور جگنوپروانے کی منزل سے بہت دُور ہے جُگنو3/4
- 129جاوید کے نامخودی کے ساز میں ہے عُمرِ جاوداں کا سُراغ9/10
- 130گدائیمے کدے میں ایک دن اک رندِ زِیرک نے کہا10/10
- 131ملااور بہشتمَیں بھی حاضر تھا وہاں، ضبطِ سخن کر نہ سکا8/8
- 132دین وسیاستکلیِسا کی بُنیاد رُہبانیت تھی10/14
- 133الارض للہپالتا ہے بیج کو مٹی کو تاریکی میں کون5/8
- 134ایک نوجوان کے نامترے صوفے ہیں افرنگی، ترے قالیں ہیں ایرانیِ11/12
- 135نصیحتبچہء شاہیں سے کہتا تھا عقاب سالخورد3/6
- 136لالہ صحرایہ گُنبدِ مِینائی، یہ عالمِ تنہائی15/16
- 137ساقی نامہہُوا خیمہ زن کاروانِ بہار178/198
- 138زمانہجو تھا نہیں ہے، جو ہے نہ ہو گا، یہی ہے اک حرفِ محرمانہ17/20
- 139فرشتے آدم کو جنت سے رخصت کرتے ہیںعطا ہُوئی ہے تجھے روزوشب کی بیتابی9/10
- 140روح ارضی آدم کا استقبال کرتی ہےکھول آنکھ، زمیں دیکھ، فلک دیکھ، فضا دیکھ23/25
- 141پیرو مریدچشمِ بینا سے ہے جاری جُوئے خُوں87/116
- 142جبریل وابلیسہمدمِ دیرینہ! کیسا ہے جہانِ رنگ و بُو؟17/22
- 143اذاناک رات ستاروں سے کہا نجمِ سحَر نے14/14
- 144محبتشہیدِ محبّت نہ کافر نہ غازی9/10
- 145ستارے کا پیغاممجھے ڈرا نہیں سکتی فضا کی تاریکی3/4
- 146جاوید کے نامدیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر9/10
- 147فلسفہ ومذہب!یہ آفتاب کیا ، یہ سپہر بریں ہے کیا4/10
- 148یورپ سے ایک خطہم خُوگرِ محسوس ہیں ساحل کے خریدار5/10
- 149نپولین کے مزار پرراز ہے، راز ہے تقدیرِ جہانِ تگ و تاز9/12
- 150مسولینینُدرتِ فکر و عمل کیا شے ہے، ذوقِ انقلاب11/14
- 151سوالاک مفلس خود دار یہ کہتا تھا خدا سے3/4
- 152پنچاب کے دہقان سےبتا کیا تری زندگی کا ہے راز12/14
- 153نادر شاہ افغانحضورِ حق سے چلا لے کے لُولوئے لالا7/8
- 154خوشحال خاں کی وصیتقبائل ہوں ملّت کی وحدت میں گُم8/10
- 155تاتاری کا خوابکہیں سجّادہ و عمّامہ رہزن16/20
- 156حال ومقامدل زندہ و بیدار اگر ہو تو بتدریج8/8
- 157ابوالعلامعریکہتے ہیں کبھی گوشت نہ کھاتا تھا معّری11/12
- 158سنیماوہی بُت فروشی، وہی بُت گری ہے8/8
- 159پنچاب کے پیرزادوں سےحاضر ہوا میں شیخ مجدد کی لحد پر9/16
- 160سیاستاس کھیل میں تعیینِ مراتب ہے ضروری3/4
- 161فقراک فقر سکھاتا ہے صےاد کو نخچیری3/6
- 162خودیخودی کو نہ دے سیم و زر کے عوض4/6
- 163جدائیسُورج بُنتا ہے تارِ زر سے8/8
- 164خانقاہرمز و اِیما اس زمانے کے لیے موزُوں نہیں3/4
- 165ابلیس کی عرضداشتکہتا تھا عزازیل خداوند جہاں سے8/10
- 166لہواگر لہُو ہے بدن میں تو خوف ہے نہ ہراس4/4
- 167پروازکہا درخت نے اک روز مرغ صحرا سے7/8
- 168شیخ مکتب سےشیخِ مکتب ہے اک عمارت گر3/6
- 169فلسفیبلند بال تھا، لیکن نہ تھا جسور و غیور3/4
- 170شاہیںکِیا میں نے اُس خاک داں سے کنارا12/18
- 171باغی مریدہم کو تو میسّر نہیں مٹّی کا دِیا بھی8/8
- 172ہارون کی آخری نصیحتہاروں نے کہا وقتِ رحِیل اپنے پِسر سے4/4
- 173ماہر نفسیات سےجُرأت ہے تو افکار کی دنیا سے گزر جا2/4
- 174یورپتاک میں بیٹھے ہیں مُدّت سے یہودی سُودخوار4/4
- 175آزادی افکارجو دُونیِ فطرت سے نہیں لائقِ پرواز7/8
- 176شیر اور خچرساکنانِ دشت و صحرا میں ہے تُو سب سے الگ4/4
- 177چیونٹی اورعقابمَیں پائمال و خوار و پریشان و دردمند3/4
- 178قطعہ - فطرت مری مانند نسیم سحری ہےفطرت مری مانندِ نسیمِ سحرَی ہے4/4
- 179قطعہ - کل اپنے مریدوں سے کہا پیر مغاں نےکل اپنے مُریدوں سے کہا پِیرِ مغاں نے3/4
Beside each poem: how many of its lines arooz scans. A line it cannot scan is marked in the text — a limit of arooz, not of the poet.