Bal-e-Jibril · 40 of 179

خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں

Allama Iqbal
Bahrمجتث مثمن مخبون محذوف
مفاعلن فَعِلاتن مفاعلن فَعِلن
arooz scans 14 of 14 lines

خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں

ترا علاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں

ہر اک مقام سے آگے مقام ہے تیرا

حیات ذوقِ سفر کے سوا کچھ اور نہیں

گراں بہا ہے تو حِفظِ خودی سے ہے ورنہ

گُہَر میں آبِ گُہَر کے سوا کچھ اور نہیں

رگوں میں گردشِ خُوں ہے اگر تو کیا حاصل

حیات سوزِ جگر کے سوا کچھ اور نہیں

عروسِ لالہ! مُناسب نہیں ہے مجھ سے حجاب

کہ مَیں نسیمِ سحَر کے سوا کچھ اور نہیں

جسے کساد سمجھتے ہیں تاجرانِ فرنگ

وہ شے متاعِ ہُنر کے سوا کچھ اور نہیں

بڑا کریم ہے اقبالِؔ بے نوا لیکن

عطائے شُعلہ شرر کے سوا کچھ اور نہیں

Source: ur.wikisource.org (PD-Pakistan)

Public domain — Allama Iqbal died in 1938

English translation as given in the Iqbal Demystified dataset. A translation is a separate work: the poem’s public-domain status does not extend to it.