Bal-e-Jibril · 23 of 179

پھر چراغِ لالہ سے روشن ہوئے کوہ و دمن

Allama Iqbal
Bahrرمل مثمن محذوف
فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
arooz scans 18 of 18 lines

پھر چراغِ لالہ سے روشن ہوئے کوہ و دمن

مجھ کو پھر نغموں پہ اُکسانے لگا مُرغِ چمن

پھُول ہیں صحرا میں یا پریاں قطار اندر قطار

اُودے اُودے، نیلے نیلے، پیلے پیلے پیرہن

برگِ گُل پر رکھ گئی شبنم کا موتی بادِ صبح

اور چمکاتی ہے اس موتی کو سورج کی کرن

حُسنِ بے پروا کو اپنی بے نقابی کے لیے

ہوں اگر شہروں سے بن پیارے تو شہر اچھّے کہ بَن

اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی

تُو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن، اپنا تو بن

من کی دنیا! من کی دنیا سوز و مستی، جذب و شوق

تن کی دنیا! تن کی دنیا سُود و سودا، مکر و فن

من کی دولت ہاتھ آتی ہے تو پھر جاتی نہیں

تن کی دولت چھاؤں ہے، آتا ہے دَھَن جاتا ہے دَھَن

من کی دنیا میں نہ پایا میں نے افرنگی کا راج

من کی دنیا میں نہ دیکھے مَیں نے شیخ و برہَمن

پانی پانی کر گئی مجھ کو قلندر کی یہ بات

تُو جھُکا جب غیر کے آگے، نہ من تیرا نہ تن

Source: ur.wikisource.org (PD-Pakistan)

Public domain — Allama Iqbal died in 1938

English translation as given in the Iqbal Demystified dataset. A translation is a separate work: the poem’s public-domain status does not extend to it.