Bal-e-Jibril · 28 of 179

پُوچھ اس سے کہ مقبول ہے فطرت کی گواہی

Allama Iqbal
Bahrہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف
مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن
arooz scans 10 of 10 lines

پُوچھ اس سے کہ مقبول ہے فطرت کی گواہی

تُو صاحبِ منزل ہے کہ بھٹکا ہوا راہی

کافر ہے مسلماں تو نہ شاہی نہ فقیری

مومن ہے تو کرتا ہے فقیری میں بھی شاہی

کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسا

مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

کافر ہے تو ہے تابعِ تقدیر مسلماں

مومن ہے تو وہ آپ ہے تقدیر الٰہی

مَیں نے تو کِیا پردۂ اسرار کو بھی چاک

دیرینہ ہے تیرا مَرضِ کور نگاہی

Source: ur.wikisource.org (PD-Pakistan)

Public domain — Allama Iqbal died in 1938

English translation as given in the Iqbal Demystified dataset. A translation is a separate work: the poem’s public-domain status does not extend to it.