Bal-e-Jibril · 41 of 179

نگاہِ فقر میں شانِ سکندری کیا ہے

Allama Iqbal
Bahrمجتث مثمن مخبون محذوف مسکن
مفاعلن فَعِلاتن مفاعلن فِعْلن
arooz scans 14 of 14 lines

نگاہِ فقر میں شانِ سکندری کیا ہے

خراج کی جو گدا ہو، وہ قیصری کیا ہے!

بتوں سے تجھ کو اُمیدیں، خدا سے نومیدی

مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے!

فلَک نے اُن کو عطا کی ہے خواجگی کہ جنھیں

خبر نہیں روشِ بندہ پروری کیا ہے

فقط نگاہ سے ہوتا ہے فیصلہ دل کا

نہ ہو نگاہ میں شوخی تو دلبری کیا ہے

اِسی خطا سے عتابِ مُلُوک ہے مجھ پر

کہ جانتا ہُوں مآلِ سکندری کیا ہے

کسے نہیں ہے تمنّائے سَروری، لیکن

خودی کی موت ہو جس میں وہ سَروری کیا ہے!

خوش آگئی ہے جہاں کو قلندری میری

وگرنہ شعر مرا کیا ہے، شاعری کیا ہے!

Source: ur.wikisource.org (PD-Pakistan)

Public domain — Allama Iqbal died in 1938

English translation as given in the Iqbal Demystified dataset. A translation is a separate work: the poem’s public-domain status does not extend to it.