گیسوئے تابدار کو اور بھی تابدار کر
گیسوئے تابدار کو اور بھی تابدار کرarooz could not scan this line
ہوش و خرد شکار کر، قلب و نظر شکار کر
عشق بھی ہو حجاب میں، حُسن بھی ہو حجاب میں
یا تو خود آشکار ہو یا مجھے آشکار کر
تُو ہے محیطِ بےکراں، میں ہُوں ذرا سی آبُجو
یا مجھے ہمکنار کر یا مجھے بے کنار کر
میں ہُوں صدَف تو تیرے ہاتھ میرے گُہر کی آبرو
میں ہُوں خزَف تو تُو مجھے گوہرِ شاہوار کر
نغمۂ نَو بہار اگر میرے نصیب میں نہ ہو
اس دمِ نیم سوز کو طائرکِ بہار کر
باغِ بہشت سے مجھے حکمِ سفر دیا تھا کیوں
کارِ جہاں دراز ہے، اب مرا انتظار کر
روزِ حساب جب مرا پیش ہو دفترِ عمل
آپ بھی شرمسار ہو، مجھ کو بھی شرمسار کر
A small circle marks a line arooz could not fit to the poem’s bahr. That is a limit of arooz, not of the poet: the text may leave an izafat unwritten, a word may be missing from arooz’s dictionary, or the line may use a licence arooz does not yet model.