Bal-e-Jibril · 56 of 179

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

Allama Iqbal
Bahrمتقارب مثمن سالم
فعولن فعولن فعولن فعولن
arooz scans 14 of 14 lines

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

تہی، زندگی سے نہیں یہ فضائیں

یہاں سینکڑوں کارواں اور بھی ہیں

قناعت نہ کر عالمِ رنگ و بُو پر

چمن اور بھی آشیاں اور بھی ہیں

اگر کھو گیا اک نشیمن تو کیا غم

مقاماتِ آہ و فغاں اور بھی ہیں

تو شاہیں ہے، پرواز ہے کام تیرا

ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں

اسی روز و شب میں اُلجھ کر نہ رہ جا

کہ تیرے زمان و مکاں اور بھی ہیں

گئے دن کہ تنہا تھا مَیں انجمن میں

یہاں اب مِرے رازداں اور بھی ہیں

Source: ur.wikisource.org (PD-Pakistan)

Public domain — Allama Iqbal died in 1938

English translation as given in the Iqbal Demystified dataset. A translation is a separate work: the poem’s public-domain status does not extend to it.