Bal-e-Jibril · 5 of 179

کیا عشق ایک زندگیِ مستعار کا

Allama Iqbal
Bahrمضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
مفعول فاعلاتُ مفاعیل فاعلن
arooz scans 10 of 10 lines

کیا عشق ایک زندگیِ مستعار کا

کیا عشق پائدار سے ناپائدار کا

وہ عشق جس کی شمع بُجھا دے اجل کی پھُونک

اُس میں مزا نہیں تپش و انتظار کا

میری بساط کیا ہے، تب و تابِ یک نفَس

شُعلے سے بے محل ہے اُلجھنا شرار کا

کر پہلے مجھ کو زندگیِ جاوداں عطا

پھر ذوق و شوق دیکھ دلِ بے قرار کا

کانٹا وہ دے کہ جس کی کھٹک لازوال ہو

یا رب، وہ درد جس کی کسک لازوال ہو!

Source: ur.wikisource.org (PD-Pakistan)

Public domain — Allama Iqbal died in 1938

English translation as given in the Iqbal Demystified dataset. A translation is a separate work: the poem’s public-domain status does not extend to it.