Bal-e-Jibril · 66 of 179

کریں گے اہلِ نظر تازہ بستیاں آباد

Allama Iqbal
Bahrمجتث مثمن مخبون محذوف مسکن
مفاعلن فَعِلاتن مفاعلن فِعْلن
arooz scans 14 of 14 lines

کریں گے اہلِ نظر تازہ بستیاں آباد

مری نگاہ نہیں سُوئے کوفہ و بغداد

یہ مدرسہ، یہ جواں، یہ سُرور و رعنائی

انھی کے دم سے ہے میخانۂ فرنگ آباد

نہ فلسفی سے، نہ مُلّا سے ہے غرض مجھ کو

یہ دل کی موت، وہ اندیشہ و نظر کا فساد

فقیہِ شہر کی تحقیر! کیا مجال مری

مگر یہ بات کہ مَیں ڈھُونڈتا ہوں دل کی کشاد

خرید سکتے ہیں دنیا میں عشرتِ پرویز

خدا کی دین ہے سرمایۂ غمِ فرہاد

کیے ہیں فاش رمُوزِ قلندری میں نے

کہ فکرِ مدرسہ و خانقاہ ہو آزاد

رِشی کے فاقوں سے ٹوٹا نہ برہَمن کا طِلسم

عصا نہ ہو تو کلیمی ہے کارِ بے بنیاد

Source: ur.wikisource.org (PD-Pakistan)

Public domain — Allama Iqbal died in 1938

English translation as given in the Iqbal Demystified dataset. A translation is a separate work: the poem’s public-domain status does not extend to it.