Bal-e-Jibril · 77 of 179

شعور و ہوش و خرد کا معاملہ ہے عجیب

Allama Iqbal
Bahrمجتث مثمن مخبون محذوف
مفاعلن فَعِلاتن مفاعلن فَعِلن
arooz scans 10 of 10 lines

شعور و ہوش و خرد کا معاملہ ہے عجیب

مقامِ شوق میں ہیں سب دل و نظر کے رقیب

میں جانتا ہوں جماعت کا حشر کیا ہو گا

مسائلِ نظَری میں اُلجھ گیا ہے خطیب

اگرچہ میرے نشیمن کا کر رہا ہے طواف

مری نوا میں نہیں طائرِ چمن کا نصیب

سُنا ہے میں نے سخن رس ہے تُرکِ عثمانی

سُنائے کون اسے اقبالؔ کا یہ شعرِ غریب

سمجھ رہے ہیں وہ یورپ کو ہم جوار اپنا

ستارے جن کے نشیمن سے ہیں زیادہ قریب!

Source: ur.wikisource.org (PD-Pakistan)

Public domain — Allama Iqbal died in 1938

English translation as given in the Iqbal Demystified dataset. A translation is a separate work: the poem’s public-domain status does not extend to it.