Bal-e-Jibril · 45 of 179

افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخر

Allama Iqbal
Bahrہزج مثمن اخرب سالم
مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن
arooz scans 14 of 14 lines

افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخر

کرتے ہیں خطاب آخر، اٹھتے ہیں حجاب آخر

احوال محبت میں کچھ فرق نہیں ایسا!

سوزو تب و تاب اول، سوزو تب و تاب آخر!

میں تجھ کو بتاتا ہوں تقدیر اُمم کیا ہے

شمشیر و سناں اول، طاؤس و رباب آخر

میخانۂ یورپ کے دستور نرالے ہیں

لاتے ہیں سرور اول، دیتے ہیں شراب آخر

کیا دبدبۂ نادر، کیا شوکتِ تیموری!

ہوجاتے ہیں سب دفتر غرقِ مئے ناب آخر

خلوت کی گھڑی گزری، جلوت کی گھڑی آئی

چھٹنے کو ہے بجلی سے آغوشِ سحاب آخر!

تھا ضبط بہت مشکل اس سیلِ معانی کا

کہہ ڈالے قلندر نے اسرارِ کتاب آخر

Source: ur.wikisource.org (PD-Pakistan)

Public domain — Allama Iqbal died in 1938

English translation as given in the Iqbal Demystified dataset. A translation is a separate work: the poem’s public-domain status does not extend to it.