مجھے آہ و فغانِ نیم شب کا پھر پیام آیا
مجھے آہ و فغانِ نیم شب کا پھر پیام آیا
تھم اے رہرو کہ شاید پھر کوئی مشکل مقام آیا
ذرا تقدیر کی گہرائیوں میں ڈُوب جا تُو بھی
کہ اس جنگاہ سے مَیں بن کے تیغِ بے نیام آیا
یہ مصرع لِکھ دیا کس شوخ نے محرابِ مسجد پر
یہ ناداں گر گئے سجدوں میں جب وقتِ قیام آیا
چل، اے میری غریبی کا تماشا دیکھنے والے
وہ محفل اُٹھ گئی جس دم تو مجھ تک دَورِ جام آیا
دیا اقبالؔ نے ہندی مسلمانوں کو سوز اپناarooz could not scan this line
یہ اک مردِ تنآساں تھا، تنآسانوں کے کام آیاarooz could not scan this line
اسی اقبالؔ کی مَیں جُستجو کرتا رہا برسوں
بڑی مُدّت کے بعد آخر وہ شاہیں زیرِ دام آیا
A small circle marks a line arooz could not fit to the poem’s bahr. That is a limit of arooz, not of the poet: the text may leave an izafat unwritten, a word may be missing from arooz’s dictionary, or the line may use a licence arooz does not yet model.