Bal-e-Jibril · 21 of 179

تُو ابھی رہ گزر میں ہے، قیدِ مقام سے گزر

Allama Iqbal
Bahrرجز مثمن مطوی مخبون
مفتَعِلن مفاعلن مفتَعِلن مفاعلن
arooz scans 10 of 10 lines

تُو ابھی رہ گزر میں ہے، قیدِ مقام سے گزر

مصر و حجاز سے گزر، پارس و شام سے گزر

جس کا عمل ہے بے غرض، اُس کی جزا کچھ اور ہے

حُور و خِیام سے گزر، بادہ و جام سے گزر

گرچہ ہے دلکُشا بہت حُسنِ فرنگ کی بہار

طائرکِ بلند بال، دانہ و دام سے گزر

کوہ شگاف تیری ضرب، تجھ سے کُشادِ شرق و غرب

تیغِ ہلال کی طرح عیش نیام سے گزر

تیرا امام بے حضور، تیری نماز بے سُرور

ایسی نماز سے گزر، ایسے امام سے گزر!

Source: ur.wikisource.org (PD-Pakistan)

Public domain — Allama Iqbal died in 1938

English translation as given in the Iqbal Demystified dataset. A translation is a separate work: the poem’s public-domain status does not extend to it.