Bal-e-Jibril · 37 of 179
خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں
Allama Iqbal
Bahrمجتث مثمن مخبون محذوف
مفاعلن فَعِلاتن مفاعلن فَعِلن
arooz scans 14 of 14 lines
خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں
تُو آبجُو اسے سمجھا اگر تو چارہ نہیں
طلسمِ گُنبدِ گردُوں کو توڑ سکتے ہیں
زُجاج کی یہ عمارت ہے، سنگِ خارہ نہیں
خودی میں ڈُوبتے ہیں پھر اُبھر بھی آتے ہیں
مگر یہ حوصلۂ مردِ ہیچ کارہ نہیں
ترے مقام کو انجم شناس کیا جانے
کہ خاکِ زندہ ہے تُو، تابعِ ستارہ نہیں
یہیں بہشت بھی ہے، حُور و جبرئیل بھی ہے
تری نگہ میں ابھی شوخیِ نظارہ نہیں
مرے جُنوں نے زمانے کو خوب پہچانا
وہ پیرہن مجھے بخشا کہ پارہ پارہ نہیں
غضب ہے، عینِ کرم میں بخیل ہے فطرت
کہ لعلِ ناب میں آتش تو ہے، شرارہ نہیں