Bal-e-Jibril · 60 of 179
حادثہ وہ جو ابھی پردۂ افلاک میں ہے
Allama Iqbal
Bahrرمل مثمن سالم مخبون محذوف
فاعلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فَعِلن
arooz scans 10 of 10 lines
حادثہ وہ جو ابھی پردۂ افلاک میں ہے
عکس اُس کا مرے آئینۂ ادراک میں ہے
نہ ستارے میں ہے، نَے گردشِ افلاک میں ہے
تیری تقدیر مرے نالۂ بے باک میں ہے
یا مری آہ میں کوئی شررِ زندہ نہیں
یا ذرا نم ابھی تیرے خس و خاشاک میں ہے
کیا عجب میری نوا ہائے سحَر گاہی سے
زندہ ہو جائے وہ آتش کہ تری خاک میں ہے
توڑ ڈالے گی یہی خاک طلسمِ شب و روز
گرچہ اُلجھی ہوئی تقدیر کے پیچاک میں ہے