خِردمندوں سے کیا پُوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہے
خِردمندوں سے کیا پُوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہےarooz could not scan this line
کہ مَیں اس فکر میں رہتا ہوں، میری انتہا کیا ہے
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پُوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے
مقامِ گُفتگو کیا ہے اگر مَیں کیمیاگر ہوں
یہی سوزِ نفَس ہے، اَور میری کیمیا کیا ہے!
نظر آئیں مجھے تقدیر کی گہرائیاں اُس میں
نہ پُوچھ اے ہم نشیں مجھ سے وہ چشمِ سُرمہ سا کیا ہے
اگر ہوتا وہ مجذوبِ فرنگی اس زمانے میں
تو اقبالؔ اس کو سمجھاتا مقامِ کبریا کیا ہے
نوائے صُبحگاہی نے جگر خُوں کر دیا میراarooz could not scan this line
خدایا جس خطا کی یہ سزا ہے، وہ خطا کیا ہے!
A small circle marks a line arooz could not fit to the poem’s bahr. That is a limit of arooz, not of the poet: the text may leave an izafat unwritten, a word may be missing from arooz’s dictionary, or the line may use a licence arooz does not yet model.