Bal-e-Jibril · 15 of 179

اک دانشِ نُورانی، اک دانشِ بُرہانی

Allama Iqbal
Bahrہزج مثمن اخرب سالم
مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن
arooz scans 14 of 14 lines

اک دانشِ نُورانی، اک دانشِ بُرہانی

ہے دانشِ بُرہانی، حیرت کی فراوانی

اس پیکرِ خاکی میں اک شے ہے، سو وہ تیری

میرے لیے مشکل ہے اُس شے کی نگہبانی

اب کیا جو فغاں میری پہنچی ہے ستاروں تک

تُو نے ہی سِکھائی تھی مجھ کو یہ غزل خوانی

ہو نقش اگر باطل، تکرار سے کیا حاصل

کیا تجھ کو خوش آتی ہے آدم کی یہ ارزانی؟

مجھ کو تو سِکھا دی ہے افرنگ نے زِندیقی

اس دَور کے مُلّا ہیں کیوں ننگِ مسلمانی!

تقدیر شکن قُوّت باقی ہے ابھی اس میں

ناداں جسے کہتے ہیں تقدیر کا زِندانی

تیرے بھی صنم خانے، میرے بھی صنم خانے

دونوں کے صنم خاکی، دونوں کے صنم فانی

Source: ur.wikisource.org (PD-Pakistan)

Public domain — Allama Iqbal died in 1938

English translation as given in the Iqbal Demystified dataset. A translation is a separate work: the poem’s public-domain status does not extend to it.