Bal-e-Jibril · 143 of 179
اذان
Allama Iqbal
Bahrہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف
مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن
arooz scans 14 of 14 lines
اک رات ستاروں سے کہا نجمِ سحَر نے
آدم کو بھی دیکھا ہے کسی نے کبھی بیدار؟
کہنے لگا مرّیخ، ادا فہم ہے تقدیر
ہے نیند ہی اس چھوٹے سے فتنے کو سزاوار
زُہرہ نے کہا، اور کوئی بات نہیں کیا؟
اس کرمکِ شب کور سے کیا ہم کو سروکار!
بولا مہِ کامل کہ وہ کوکب ہے زمینی
تم شب کو نمودار ہو، وہ دن کو نمودار
واقف ہو اگر لذّتِ بیداریِ شب سے
اُونچی ہے ثُریّا سے بھی یہ خاکِ پُر اسرار
آغوش میں اس کی وہ تجلّی ہے کہ جس میں
کھو جائیں گے افلاک کے سب ثابت و سیّار
ناگاہ فضا بانگِ اذاں سے ہُوئی لبریز
وہ نعرہ کہ ہِل جاتا ہے جس سے دلِ کُہسار!