Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. شہر میں بن کے محبت کا گداگر مانگوںمجھ کو مانگے سے ملے وہ تو میں در در مانگوںR P Shokh
  2. شہروں میں ناچتا ہوا جنگل ہے اور میںصدیوں کے بعد بھی وہی قاتل ہے اور میںR P Shokh
  3. غم تو یہ بھی ہے کہ تقدیر بھی روئی برسوںہائے وہ زلف گرہ گیر بھی روئی برسوںR P Shokh
  4. کبھی ہونے سے کبھی دکھ کے نہ ہونے سے ہوااے محبت تجھے بس کام ہی رونے سے ہواR P Shokh
  5. کٹ گئے ہم تو حبیبوں سے اجازت لے کرہم سے ملتا ہے رقیبوں سے اجازت لے کرR P Shokh
  6. کس پہ قربان کسے یاد ہوئے تھے ہم بھییاد اتنا ہے کہ برباد ہوئے تھے ہم بھیR P Shokh
  7. کم کبھی راہ کے آزار تو ہوتے ہوں گےآبلہ پائی کہیں خار تو ہوتے ہوں گےR P Shokh
  8. کوہ کن شب تھے رہا شغل سحر ہونے تکسر پٹکنا اسی دیوار میں در ہونے تکR P Shokh
  9. گلوں کو چوم کر آئی صبا سی لگتی تھیتھی اک نظر پہ معطر ہوا سی لگتی تھیR P Shokh
  10. ماتھے پہ پڑی زلف گرہ گیر ہلا دیکیوں تم نے دل خفتہ کی زنجیر ہلا دیR P Shokh
  11. مشکل میں رہا وہ بھی کہ تدبیر نہ تھا میںمیں خواب تو تھا اس کا پہ تعبیر نہ تھا میںR P Shokh
  12. نقش دیوار شکستہ ہی کہیں ہو مجھ میںدرد ہو یاد ہو کوئی تو مکیں ہو مجھ میںR P Shokh
  13. نہ تلافیاں ہی مانگیں نہ وفا نہ پیار مانگیںچلو آج اس سے کھویا ہوا اعتبار مانگیںR P Shokh
  14. وہ تو حشر تھا مگر اس کی اب وہ شباہتیں بھی چلی گئیںجو رہیں تو شہر میں کیا رہیں کہ قیامتیں بھی چلی گئیںR P Shokh
  15. وہ نہیں بیچ تو یہ عمر رواں کہتی ہےکیا چلوں جب کوئی محور سے علیحدہ کر دےR P Shokh
  16. یہ اتفاق تھا میں اس کا ہم زمانہ تھاجو زندگی سے تعارف تھا غائبانہ تھاR P Shokh
  17. یہ حادثہ ہے مگر اس طرف ہوا بھی نہیںجدا ہوا بھی تو اس سے جو جانتا بھی نہیںR P Shokh
  18. یہ حسرتوں کی مری خاک سے نمو کیا ہےترے بغیر یہ دنیائے رنگ و بو کیا ہےR P Shokh
  19. اشک امڈیں تو انہیں پلکوں پہ روکا جائےکیوں یہ پندار وفا صورت گریہ جائےAabid Jafri
  20. بصارتوں کو رہ شوق میں گنوا دیکھاتجھے نہ دیکھا مگر ہاں یہ حادثہ دیکھاAabid Jafri
  21. چاروں طرف کچھ دیواریں سی رہتی ہیں آہوں میں لگیمیری مٹی تیرے گھر کی گہری بنیادوں میں لگیAabid Jafri
  22. درد کی آنچ میں جلتا ہے یہ گھر کیا کیجےخواب ہوتی ہے تمنا کی سحر کیا کیجےAabid Jafri
  23. دل سے محرومیٔ احساس مٹانے کے لیےگل کھلے ہیں مرے زخموں کو دکھانے کے لیےAabid Jafri
  24. شب کی آغوش میں جاگا ہوا گھر کس کا ہےاس پہ آسیب نہیں ہے تو اثر کس کا ہےAabid Jafri
  25. شکوے ہمیں تو جہد مکرر کے نہیں ہیںہجرت ہوئی ہے یوں کہ کسی گھر کے نہیں ہیںAabid Jafri
  26. عبث ہے شاخ قد آور پہ آشیاں رکھنازمیں کو راس کب آیا ہے آسماں رکھناAabid Jafri
  27. غم دیا ہے تو سوا حوصلۂ غم دینایہ تو اک آگ ہے پھر کیا اسے شبنم دیناAabid Jafri
  28. فکر رکھتے ہیں کہاں ذہن اگر رکھتے ہیںدشت بے آب میں جو تخم ہنر رکھتے ہیںAabid Jafri
  29. کر چکا پھول میں جب سارے جہاں کے پتھرآ پڑے سر پہ مرے جانے کہاں کے پتھرAabid Jafri
  30. کون تھا جو دست قاتل کے لئے تیار تھاایک میں ہی بزم اہل خواب میں بیدار تھاAabid Jafri
  31. گھر تو لٹتا ہے مگر ہم کو مٹانے والےکون سے دیس سے لائیں گے زمانے والےAabid Jafri
  32. میں اجنبی رہا سب سے مگر سبھی میں رہایہ حوصلہ بھی یہاں پر کسی کسی میں رہاAabid Jafri
  33. وہ جو اپنے تھے وہی ہو گئے ہرجائی بھیبات پیشانی پہ لکھی ہوئی پیش آئی بھیAabid Jafri
  34. ہم کو جاناں اس نگری میں چلنا بھی دشوار ہوالوگوں کا ہر سنگ ملامت اپنے لیے دیوار ہواAabid Jafri
  35. یہ داغ ہجر نہیں مٹ سکا جبیں کا لگازمیں کہیں کی ہے پیوند ہے کہیں کا لگاAabid Jafri
  36. یہ کس نے عہد فراموش سے صدا دی ہےابھی چراغ جلائے ہی تھے ہوا دی ہےAabid Jafri
  37. یہی تو ایک شکایت سفر میں رہتی ہےہوائے گرد مسلسل نظر میں رہتی ہےAabid Jafri
  38. یہ میرا قبلہوہ تیرا قبلہAabid Jafri
  39. اب نہیں آؤں گامیں تمہارے کسی دام میںAabid Jafri
  40. سنوظلم کا ابر دھرتی کے تپتے بدن پر جو برساؤ گےAabid Jafri
  41. اٹھاؤ مشعلچلو وہ بستی قریب تر ہےAabid Jafri
  42. میں ایک تیشہ بدست انساںمجھے خرابوں کی جستجو ہےAabid Jafri
  43. میں کس منزل پہ آ پہنچایہاں تو چاندنی اوڑھے ہوئےAabid Jafri
  44. میں کیا لکھوںتمہارے واسطےAabid Jafri
  45. ہو رہا ہے وہیجس کا اندیشہ ذہنوں میں پلتا رہاAabid Jafri
  46. یہ کس نے چہروں پہ تان دی ہےناآشنائی کی پھر سے چادرAabid Jafri
  47. یہ مجھ میں کون ہےکہ جب بھی گردش لہو نےAabid Jafri
  48. آنسو تھمے جو رخ پہ وہ گیسو بکھر گیاملتے ہی دونوں وقت کے دریا ٹھہر گیامیر کلو عرش
  49. اپنی پرسش جو ہو ارباب وفا سے پہلےمانگیے دولت دیدار خدا سے پہلےمیر کلو عرش
  50. بے قراروں کو کب قرار آیاموت بھی آئی پر نہ یار آیامیر کلو عرش