Poetry
Poet
Meter
- شہر میں بن کے محبت کا گداگر مانگوںمجھ کو مانگے سے ملے وہ تو میں در در مانگوںR P Shokh
- شہروں میں ناچتا ہوا جنگل ہے اور میںصدیوں کے بعد بھی وہی قاتل ہے اور میںR P Shokh
- غم تو یہ بھی ہے کہ تقدیر بھی روئی برسوںہائے وہ زلف گرہ گیر بھی روئی برسوںR P Shokh
- کبھی ہونے سے کبھی دکھ کے نہ ہونے سے ہوااے محبت تجھے بس کام ہی رونے سے ہواR P Shokh
- کٹ گئے ہم تو حبیبوں سے اجازت لے کرہم سے ملتا ہے رقیبوں سے اجازت لے کرR P Shokh
- کس پہ قربان کسے یاد ہوئے تھے ہم بھییاد اتنا ہے کہ برباد ہوئے تھے ہم بھیR P Shokh
- کم کبھی راہ کے آزار تو ہوتے ہوں گےآبلہ پائی کہیں خار تو ہوتے ہوں گےR P Shokh
- کوہ کن شب تھے رہا شغل سحر ہونے تکسر پٹکنا اسی دیوار میں در ہونے تکR P Shokh
- گلوں کو چوم کر آئی صبا سی لگتی تھیتھی اک نظر پہ معطر ہوا سی لگتی تھیR P Shokh
- ماتھے پہ پڑی زلف گرہ گیر ہلا دیکیوں تم نے دل خفتہ کی زنجیر ہلا دیR P Shokh
- مشکل میں رہا وہ بھی کہ تدبیر نہ تھا میںمیں خواب تو تھا اس کا پہ تعبیر نہ تھا میںR P Shokh
- نقش دیوار شکستہ ہی کہیں ہو مجھ میںدرد ہو یاد ہو کوئی تو مکیں ہو مجھ میںR P Shokh
- نہ تلافیاں ہی مانگیں نہ وفا نہ پیار مانگیںچلو آج اس سے کھویا ہوا اعتبار مانگیںR P Shokh
- وہ تو حشر تھا مگر اس کی اب وہ شباہتیں بھی چلی گئیںجو رہیں تو شہر میں کیا رہیں کہ قیامتیں بھی چلی گئیںR P Shokh
- وہ نہیں بیچ تو یہ عمر رواں کہتی ہےکیا چلوں جب کوئی محور سے علیحدہ کر دےR P Shokh
- یہ اتفاق تھا میں اس کا ہم زمانہ تھاجو زندگی سے تعارف تھا غائبانہ تھاR P Shokh
- یہ حادثہ ہے مگر اس طرف ہوا بھی نہیںجدا ہوا بھی تو اس سے جو جانتا بھی نہیںR P Shokh
- یہ حسرتوں کی مری خاک سے نمو کیا ہےترے بغیر یہ دنیائے رنگ و بو کیا ہےR P Shokh
- اشک امڈیں تو انہیں پلکوں پہ روکا جائےکیوں یہ پندار وفا صورت گریہ جائےAabid Jafri
- بصارتوں کو رہ شوق میں گنوا دیکھاتجھے نہ دیکھا مگر ہاں یہ حادثہ دیکھاAabid Jafri
- چاروں طرف کچھ دیواریں سی رہتی ہیں آہوں میں لگیمیری مٹی تیرے گھر کی گہری بنیادوں میں لگیAabid Jafri
- درد کی آنچ میں جلتا ہے یہ گھر کیا کیجےخواب ہوتی ہے تمنا کی سحر کیا کیجےAabid Jafri
- دل سے محرومیٔ احساس مٹانے کے لیےگل کھلے ہیں مرے زخموں کو دکھانے کے لیےAabid Jafri
- شب کی آغوش میں جاگا ہوا گھر کس کا ہےاس پہ آسیب نہیں ہے تو اثر کس کا ہےAabid Jafri
- شکوے ہمیں تو جہد مکرر کے نہیں ہیںہجرت ہوئی ہے یوں کہ کسی گھر کے نہیں ہیںAabid Jafri
- عبث ہے شاخ قد آور پہ آشیاں رکھنازمیں کو راس کب آیا ہے آسماں رکھناAabid Jafri
- غم دیا ہے تو سوا حوصلۂ غم دینایہ تو اک آگ ہے پھر کیا اسے شبنم دیناAabid Jafri
- فکر رکھتے ہیں کہاں ذہن اگر رکھتے ہیںدشت بے آب میں جو تخم ہنر رکھتے ہیںAabid Jafri
- کر چکا پھول میں جب سارے جہاں کے پتھرآ پڑے سر پہ مرے جانے کہاں کے پتھرAabid Jafri
- کون تھا جو دست قاتل کے لئے تیار تھاایک میں ہی بزم اہل خواب میں بیدار تھاAabid Jafri
- گھر تو لٹتا ہے مگر ہم کو مٹانے والےکون سے دیس سے لائیں گے زمانے والےAabid Jafri
- میں اجنبی رہا سب سے مگر سبھی میں رہایہ حوصلہ بھی یہاں پر کسی کسی میں رہاAabid Jafri
- وہ جو اپنے تھے وہی ہو گئے ہرجائی بھیبات پیشانی پہ لکھی ہوئی پیش آئی بھیAabid Jafri
- ہم کو جاناں اس نگری میں چلنا بھی دشوار ہوالوگوں کا ہر سنگ ملامت اپنے لیے دیوار ہواAabid Jafri
- یہ داغ ہجر نہیں مٹ سکا جبیں کا لگازمیں کہیں کی ہے پیوند ہے کہیں کا لگاAabid Jafri
- یہ کس نے عہد فراموش سے صدا دی ہےابھی چراغ جلائے ہی تھے ہوا دی ہےAabid Jafri
- یہی تو ایک شکایت سفر میں رہتی ہےہوائے گرد مسلسل نظر میں رہتی ہےAabid Jafri
- یہ میرا قبلہوہ تیرا قبلہAabid Jafri
- اب نہیں آؤں گامیں تمہارے کسی دام میںAabid Jafri
- سنوظلم کا ابر دھرتی کے تپتے بدن پر جو برساؤ گےAabid Jafri
- اٹھاؤ مشعلچلو وہ بستی قریب تر ہےAabid Jafri
- میں ایک تیشہ بدست انساںمجھے خرابوں کی جستجو ہےAabid Jafri
- میں کس منزل پہ آ پہنچایہاں تو چاندنی اوڑھے ہوئےAabid Jafri
- میں کیا لکھوںتمہارے واسطےAabid Jafri
- ہو رہا ہے وہیجس کا اندیشہ ذہنوں میں پلتا رہاAabid Jafri
- یہ کس نے چہروں پہ تان دی ہےناآشنائی کی پھر سے چادرAabid Jafri
- یہ مجھ میں کون ہےکہ جب بھی گردش لہو نےAabid Jafri
- آنسو تھمے جو رخ پہ وہ گیسو بکھر گیاملتے ہی دونوں وقت کے دریا ٹھہر گیامیر کلو عرش
- اپنی پرسش جو ہو ارباب وفا سے پہلےمانگیے دولت دیدار خدا سے پہلےمیر کلو عرش
- بے قراروں کو کب قرار آیاموت بھی آئی پر نہ یار آیامیر کلو عرش