اٹھاؤ مشعل
Aabid Jafriاٹھاؤ مشعل
چلو وہ بستی قریب تر ہے
جہاں بسیرا ہے بے گھروں کا
یہ لوگ وحشت زدہ
کہ جن کے اداس چہروں پہ
بے یقینی کی داستاں ہے
اور ان کی آنکھوں کے راستے میں
اس عہد کی کربلا کا منظر سجا ہوا ہے
یہ لوگ محصور ہو گئے ہیں
جوان کتنے ہی ان کے ہم نے
قتیل تیغ جفا کئے ہیں
اب ان کے بچے
یا ان کے بھائی
یہ حریت کے نئے سپاہی
نحیف ہاتھوں میں لے کے پتھر
سمجھ رہے ہیں
کہ فتح ان کے نصیب میں ہے
یہ کتنے مجبور ہو گئے ہیں
تو اے سپاہ امیر ظلمت
بڑھاؤ لشکر
نہتے بچوں اور عورتوں کو
بہادری کے دکھاؤ جوہر
دکھاؤ جوہر
اٹھاؤ مشعل
زمیں تو ہم نے کل ان کے قدموں سے کھینچ لی تھی
چلو کہ سر سے فلک بھی کھینچیں