کبھی ہونے سے کبھی دکھ کے نہ ہونے سے ہوا

R P Shokh

کبھی ہونے سے کبھی دکھ کے نہ ہونے سے ہوا

اے محبت تجھے بس کام ہی رونے سے ہوا

خود ہی لوٹ آئے تو لوٹ آئے مرے دیدۂ تر

کوئی زنجیر کہاں اشک پرونے سے ہوا

وہ تو رہتا ہے کہیں دل کے اندھیرے میں مگر

مجھ پہ روشن ہوا جو کچھ اسی کونے سے ہوا

اس کا ممنون ہوں اب جس نے بھنور میں چھوڑا

اتنا گہرا بھی تو میں اس کے ڈبونے سے ہوا