میں کیا لکھوں

Aabid Jafri

میں کیا لکھوں

تمہارے واسطے

اے نیم جان و سوختہ تن

وادیٔ قتل اماں کے باسیو

میں کیا لکھوں

کوئی نوحہ تمہارے روبرو

شرمندۂ تاثیر نہ ہوگا

کوئی حرف‌ حکایت

صبر کی تصویر نہ ہوگا

یہی تو جاگتی آنکھوں سے تم نے خواب دیکھے تھے

کہ اس بنجر زمیں پر اپنے خوں کی فصل ٹانکو گے

ہر اک منظر میں امن و آشتی کے رنگ پھیلا کر

ہر اک چہرے کو نور اطمینان قلب بانٹو گے

اسی بنجر زمیں پہ خاک و خوں میں آج غلطاں ہو

تو پھر کیوں سر بریدہ شاخ کی مانند بے جاں ہو

یہ ہونا تھا تو کیوں پھر اس کے ہو جانے پہ حیراں ہو

مرے لوگو

تمہاری بند آنکھیں

جاگتی آنکھوں کے خوابوں کی

تمہیں تعبیر دیتی ہیں

اسی بنجر زمیں میں

قبر کی جاگیر دیتی ہیں