سنو

Aabid Jafri

سنو

ظلم کا ابر دھرتی کے تپتے بدن پر جو برساؤ گے

تو سمے آئے گا

اور آنے ہی والا ہے یہ جان لو

کہ تمہارے بھی سر سے

یہ پانی کا ریلا گزر جائے گا

اور تمہارا بدن

منتقل ایسی دلدل میں ہو جائے گا

جس کی جانب عبث غیر کا تذکرہ

خود تمہارے بھی اپنے نہیں آئیں گے