یہ حسرتوں کی مری خاک سے نمو کیا ہے

R P Shokh

یہ حسرتوں کی مری خاک سے نمو کیا ہے

ترے بغیر یہ دنیائے رنگ و بو کیا ہے

تو یوں بھی ساتھ مرے جاں بہ لب جدائی میں

وگرنہ یہ جئے جانے کی آرزو کیا ہے

تمہاری یاد سے بڑھ کر کریں عبادت کیا

بہے جب آنکھ سے خود ہی تو پھر وضو کیا ہے

سنبھل کے یوں وہ نئے ہم سفر کے ساتھ چلا

کبھی نہ اس کو بتایا کہ جستجو کیا ہے

میں آج اپنے مسیحا سے کٹ کے آیا ہوں

مرا علاج بتا میرے چارہ جو کیا ہے

لہو تو وہ کہ بہے جب تو نقش یار بنے

نہ اپنا رنگ جمائے تو پھر لہو کیا ہے