یہ کس نے چہروں پہ تان دی ہے
Aabid Jafriیہ کس نے چہروں پہ تان دی ہے
ناآشنائی کی پھر سے چادر
کہ اس کی اجلی زمیں پہ میں نے
برش سے آنکھوں کے
ایک پیکر بنا دیا تھا
وہ ایک پیکر کہ جس میں اپنے تمام خوابوں کا خوں بھرا تھا
بہار بن کر کھلیں تھیں اس پر
مری تمنا کی ساری کلیاں
مگر وہاں اب بسیرا کرتی ہے
ناآشنائی
وہ ساری کلیاں
شناسا ہوں جن سے عمر بھر کا
کھلیں تو خوشبو وہ ناآشنائی کی میرے گھر میں
بسا گئی ہیں
مری نگاہوں کے سارے منظر کو
دشت ویراں بنا گئی ہیں