Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. خط آزادی لکھا تھا شوخ نے فردا غلطدل میں رکھتا اور کچھ ظاہر لکھا انشا غلطقاسم علی خان آفریدی
  2. رکھتا ہے اپنے حسن پر وہ دل ربا گھمنڈجیسے عبادت اپنے اوپر پارسا گھمنڈقاسم علی خان آفریدی
  3. کسی کا راغ مطالب کسی کا باغ مرادعوام خلق کو منظور ہے چراغ مرادقاسم علی خان آفریدی
  4. مجھ کو تو شراب سے مستی ہے اورتن قید کے چھوٹنے سے ہستی ہے اورقاسم علی خان آفریدی
  5. پانچ دن کو جو یہاں پر آ گیامثل گل دو روز میں کمھلا گیاقاسم علی خان آفریدی
  6. فاسق جو اگر عاشق دیوانہ ہوا تو کیادنیا کے مطالب کو فرزانہ ہوا تو کیاقاسم علی خان آفریدی
  7. اس قدر ہم ناتوان و زار ہیںبازو اپنے مچھلیوں کے خار ہیںخواجہ محمد وزیر
  8. ایک عالم نے جبہ سائی کیاے بتو تم نے بھی خدائی کیخواجہ محمد وزیر
  9. پیش عاشق چشم گریان و لب خنداں ہے ایکجل گیا جو نخل اس کو برق اور باراں ہے ایکخواجہ محمد وزیر
  10. تری طرف سے دل اے جان جاں اٹھا نہ سکےبہت ضعیف تھے بار گراں اٹھا نہ سکےخواجہ محمد وزیر
  11. ترے رخ کا کسے سودا نہیں ہےگل لالہ تلک صحرا نشیں ہےخواجہ محمد وزیر
  12. تنگیٔ دہن سے ہے اڑی باتچھوٹا سا ہے منہ ترا بڑی باتخواجہ محمد وزیر
  13. تیغ عریاں پہ تمہاری جو پڑی میری آنکھچشم جوہر سے اجی خوب لڑی میری آنکھخواجہ محمد وزیر
  14. جو خاص بندے ہیں وہ بندۂ عوام نہیںہزار بار جو یوسف بکے غلام نہیںخواجہ محمد وزیر
  15. جیتے جی بس وہ بت رہا ہم راہاب تو بندے کے ہے خدا ہم راہخواجہ محمد وزیر
  16. چلا ہے او دل راحت طلب کیا شادماں ہو کرزمین کوئے جاناں رنج دے گی آسماں ہو کرخواجہ محمد وزیر
  17. چلے بت خانے کو خدا حافظتم بھی زاہد کہو خدا حافظخواجہ محمد وزیر
  18. چھانتا ہے خاک کیا تو گھر بنانے کے لیےفکر رہنے کی نہ کر آیا ہے جانے کے لیےخواجہ محمد وزیر
  19. خدا نما ہے بت سنگ آستانۂ عشقچلوں گا پائے نگہ بن کے سوئے خانۂ عشقخواجہ محمد وزیر
  20. دم بھر جو نہ دیکھے تجھے اے رشک پری آنکھمژگاں کی زبانوں سے کرے نوحہ گری آنکھخواجہ محمد وزیر
  21. دیکھ بے بادہ کیا ہے اپنا رنگرحم اے آسمان مینا رنگخواجہ محمد وزیر
  22. سر مرا کاٹ کے پچھتائیے گاکس کی پھر جھوٹی قسم کھائیے گاخواجہ محمد وزیر
  23. عاشق زلف و رخ دلدار آنکھیں ہو گئیںمبتلائے کافر و دیندار آنکھیں ہو گئیںخواجہ محمد وزیر
  24. عذار یار پہ زلف سیاہ فام نہیںمگر یہ حشر کا دن ہے کہ جس کی شام نہیںخواجہ محمد وزیر
  25. گوہر اشک سے لبریز ہے سارا دامنآج کل دامن دولت ہے ہمارا دامنخواجہ محمد وزیر
  26. میرے نالوں سے تہہ و بالا ہوئی اکثر زمیںزیر پا آیا فلک اور بارہا سر پر زمیںخواجہ محمد وزیر
  27. میں سراپا مظہر اسم خدا واللہ ہوںہم صفیرو اس چمن میں مرغ بسم اللہ ہوںخواجہ محمد وزیر
  28. نہیں کٹتا ہے یہ میدان بلاوادیٔ خضر بیابان بلاخواجہ محمد وزیر
  29. ہر عضو مسافر ہے نہیں کچھ سفری آنکھہے آخر شب عمر چراغ سحری آنکھخواجہ محمد وزیر
  30. ہماری اس وفا پر بھی دغا کیقسم کھائی تھی او کافر خدا کیخواجہ محمد وزیر
  31. ہمیشہ دل میں جو اپنے خیال زلف و کاکل ہےتو سینے میں نفس ہر ایک موج بوئے سنبل ہےخواجہ محمد وزیر
  32. ہوا ہے عشق تازہ ابتدائی آہ ہوتی ہےمبارک طفل دل کی آج بسم اللہ ہوتی ہےخواجہ محمد وزیر
  33. ہے غلط گر ترے دانتوں کو کہوں تارے ہیںکہ دہن مصحف ناطق ہے یہ سیپارے ہیںخواجہ محمد وزیر
  34. ابر کیا گھر گھر کے آیا کھل گیابس ثبات بحر دنیا کھل گیاخواجہ محمد وزیر
  35. بات کا اپنی نہ جب پایا جوابہم یہ سمجھے وہ دہن ہے لا جوابخواجہ محمد وزیر
  36. وصل میں رفتار معشوقانہ دکھلاتی ہے نیندآج کن اٹکھیلیوں سے آنکھوں میں آتی ہے نیندخواجہ محمد وزیر
  37. ہے نقش درم جو نقش پا ہےآپ آتے تو گھر درم سرا ہےخواجہ محمد وزیر
  38. آگے تم ہو تو جفاؤں کا قلق یاد نہیںدل وہ بچہ ہے جسے پہلا سبق یاد نہیںR P Shokh
  39. اس نے پوچھا تو فقط درد کا افسانہ کھلاکسی صورت بھی نہ راز دل دیوانہ کھلاR P Shokh
  40. بے آب موسموں کا سامان کر کے رویایہ دل کہ آنکھ کو بھی ویران کر کے رویاR P Shokh
  41. پوچھو گے تو کھل جائے گی زخموں کی زباں اورپرشش تو گزرتی ہے غم دل پہ گراں اورR P Shokh
  42. تجھ کو دیکھا تو مری آنکھ نے دیکھا مجھ میںجھلملاتا ہے کوئی پہلے ہی تجھ سا مجھ میںR P Shokh
  43. جب ایک گلعذار کی صحبت میں آ گیاعارض کا رنگ میری طبیعت میں آ گیاR P Shokh
  44. جسم کا گھر ہی گرا ہے تو نہ جاں ٹھہرے گییاد آئی بھی کسی کی تو کہاں ٹھہرے گیR P Shokh
  45. جو نہ گلشن نہ گلابوں سے نکل کر آئےوہ تو خوشبو ہے جو خوابوں سے نکل کر آئےR P Shokh
  46. چارہ سازی کا طلب گار لگے ہے وہ بھیاک مسیحا ہے سو بیمار لگے ہے وہ بھیR P Shokh
  47. درد اٹھ اٹھ کے یہ کہتا ہے رگ جاں کے قریبابھی زنداں میں ہوں لیکن در زنداں کے قریبR P Shokh
  48. درد بن کر بھی دل و جاں میں نہیں رہ پاتاوہ سنورتا ہے تو امکاں میں نہیں رہ پاتاR P Shokh
  49. دل کی باتیں ہیں یہ بوجھل نہ بناؤں اس کومصلحت یہ ہے کہ کچھ بھی نہ بتاؤں اس کوR P Shokh
  50. زندگی اپنی ہوئی یار کی فطرت کی طرحہم بھی کل ہوں کہ نہ ہوں اس کی عنایت کی طرحR P Shokh