یہ حادثہ ہے مگر اس طرف ہوا بھی نہیں
R P Shokhیہ حادثہ ہے مگر اس طرف ہوا بھی نہیں
جدا ہوا بھی تو اس سے جو جانتا بھی نہیں
کبھی تو سوچ تجھے کتنا سوچتا ہوگا
وہ غم زدہ جو تری سمت دیکھتا بھی نہیں
یہ دل نے روٹھ کے کن مشکلوں میں ڈال دیا
اسی کو چاہنا اور اس سے بولنا بھی نہیں
ہمیں تو نیند میں سپنوں کی بھی مناہی ہے
دریچے بند بھی رکھنے ہیں جھانکنا بھی نہیں
نگہ کا گھر سے نکلنا تھا جرم پہلے ہی
اور اب یہ حکم ہوا ہے کہ سوچنا بھی نہیں