یہ داغ ہجر نہیں مٹ سکا جبیں کا لگا

Aabid Jafri

یہ داغ ہجر نہیں مٹ سکا جبیں کا لگا

زمیں کہیں کی ہے پیوند ہے کہیں کا لگا

ملا ہے دشت ہمیں جستجو میں منزل کی

گماں تھا پاؤں میں اور آبلہ یقیں کا لگا

ہمارا نام و نسب ہم سے پوچھنے والے

لہو نہ اس طرح دامن پہ آستیں کا لگا

اٹھا کے دوش پہ خیمے نکل پڑے ہم لوگ

ذرا نہ خوف ہمیں اجنبی زمیں کا لگا