اب نہیں آؤں گا

Aabid Jafri

اب نہیں آؤں گا

میں تمہارے کسی دام میں

اب نہیں آؤں گا

ایک مدت ہوئی

کشتئ دل کو جذبوں کے سیلاب سے

کھینچ لایا ہوں میں

اور آنکھوں میں شبنم کے بدلے

چمکتی ہوئی دھوپ ہے

دھوپ سے جسم سارا پگھل کر نئے روپ میں ڈھل گیا

اس نئے روپ میں کوئی خواہش نہیں

اس کڑی دھوپ میں کوئی سایہ نہیں

اور سائے کا ارمان بھی کس کو ہے

اس لیے

اے فراموش لمحو مجھے

پھر نہ آواز دو