وہ جو اپنے تھے وہی ہو گئے ہرجائی بھی

Aabid Jafri

وہ جو اپنے تھے وہی ہو گئے ہرجائی بھی

بات پیشانی پہ لکھی ہوئی پیش آئی بھی

دل تو پہلے ہی تھا محصور غم تنہائی

اس پہ دھرنا دئے بیٹھی ہے یہ پروائی بھی

جس طرف رخ ہو ہوا کا یہ برستی ہے وہیں

ابر کی طرح سے ہوتی ہے شناسائی بھی

دل کو رہتی بھی ہے اب محفل یاراں کی تلاش

اور طبیعت ہے کہ اس بزم میں گھبرائی بھی