یہ مجھ میں کون ہے
Aabid Jafriیہ مجھ میں کون ہے
کہ جب بھی گردش لہو نے
میرے جسم کی حرارتیں
ہر اک رگ حیات میں اتار دیں
تو اس کی خود کلامیوں نے
نیند کی سیاہ چادریں سمیٹ لیں
سماعتوں کی رہ گزر میں
اس کی گفتگو کے قافلے رکے
تو دشت زندگی پہ
ابر کا غلاف آ گیا
سکوت زندگی میں جیسے انقلاب آ گیا
میں اس سے پوچھتا رہا
کہ کب تلک یہ مرگ و زیست کی مصیبتیں
فراق و وصل کی صعوبتیں
مرے وجود پر رہیں گی خیمہ زن
مگر مرے سوال پر
یا میری عرض حال پر
نزول حرف آگہی نہ ہو سکا
وہ مجھ میں اصل ذات کی طرح رہا مگر کبھی
یہ منکشف نہ ہو سکا
کہ اس خیام ذات میں مرے سوا یہ کون ہے
اک اجنبی سا آشنا
یہ مجھ میں کون ہے