عبث ہے شاخ قد آور پہ آشیاں رکھنا

Aabid Jafri

عبث ہے شاخ قد آور پہ آشیاں رکھنا

زمیں کو راس کب آیا ہے آسماں رکھنا

سفر کرو کہ ٹھہر جاؤ اک عذاب ہے یہ

قدم کو ہجرت و منزل کے درمیاں رکھنا

کسی کا شور فغاں سن کے یاد آیا بہت

فصیل غم میں مرا درد بے زباں رکھنا

کھلی فضا میں تو شبنم بھی بار لگتی ہے

اگر ہے طرز کہن سر پہ سائباں رکھنا

یہ لوگ اپنی ہی دیوار کے نقب زن ہیں

کبھی نہ بھول کے تم گھر کا پاسباں رکھنا

ہے ناؤ موجوں کی زد میں مگر ہمیں عابدؔ

نہ آیا باد مخالف پہ بادباں رکھنا